عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت، تِری شہرت ہی سہیقطع کیجے نہ تعلّق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہیمیرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہیہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبّت ہی سہیاپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہیعمر ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہیہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہیکچھ تو دے اے فلکِ نا انصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہیہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہییار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہیTap a word to look it up