محرم نہیں ہے تو ہی، نوا ہائے راز کاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7محرم نہیں ہے تو ہی، نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کارنگِ شکستہ، صبحِ بہارِ نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کاتو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیزمیں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کاصرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میںطُعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کاہیں بس کہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہےہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کاکاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوزناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کاتاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ!سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کاTap a word to look it up