یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتاترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتاتری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتاکوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتایہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتارگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتاغم اگرچہ جاں گسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتاکہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ شبِ غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتاہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا؟نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتااسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتایہ مسائل تصّوف یہ ترا بیان غالبؔتجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتاTap a word to look it up