گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 6گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہےواں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو اُور الٹا دعوائے رسائی ہےاز بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہےآئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کشعاشق کو غبارِ دل اک وجہِ صفائی ہےہنگامِ تصوّر ہوں دریوزہ گرِ بوسہیہ کاسۂ زانو بھی اک جامِ گدائی ہےوہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔصد جلوۂ آئینہ، یک صبحِ جدائی ہےTap a word to look it up