گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٔ جا کاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٔ جا کاگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کایہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کاحنائے پائے خزاں ہے بہار، اگر ہے یہیدوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کاملی نہ وسعتِ جولانِ یک جنوں ہم کوعدم کو لے گئے دل میں غبارِ صحرا کامرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہےمیں مدّعا ہوں تپش نامۂ تمنّا کاغمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دومجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کاہنوز محرمیٔ حسن کو ترستا ہوںکرے ہے ہر بُنِ مو کام چشمِ بینا کادل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے، دے بیٹھےہمیں دماغ کہاں حُسن کے تقاضا کانہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کافلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسدؔجفا میں اُس کی ہے انداز کارفرما کاTap a word to look it up