ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اورMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 11ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اوریا رب ! وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اورابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوندہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اورتم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اورہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میںہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اورہے خوںِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خونبانہ فشاں اورمرتا ہوں اِس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائےجلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ "ہاں اور"لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اورلیتا، نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چینکرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اورپاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اورہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھّےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اورTap a word to look it up