غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 9غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہےکہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہہے یوں کہ مجھے دُردِ تہِ جام بہت ہےنَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہےکیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہےہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟پا بستگیٔ رسم و رہِ عام بہت ہےزمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حرم سے؟آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہےہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کوانکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہےخوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگرہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہےہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے؟شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہےTap a word to look it up