سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7سادگی پر اُس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہےدیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اُس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہےگرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہےبس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گییہ جو اک لذّت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہےرنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے!اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم، منزل میں ہےجلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہیفتنۂ شورِ قیامت کِس کی آب و گِل میں ہےہے دلِ شوریدۂ غالبؔ طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہےTap a word to look it up