ابنِ مریم ہوا کرے کوئیMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئیشرع و آئین پر مدار سہیایسے قاتل کا کیا کرے کوئیچال جیسے کڑی کمان کا تیردل میں ایسے کے جا کرے کوئیبات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سنا کرے کوئیبک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئینہ سنو اگر برا کہے کوئینہ کہو گر برا کرے کوئیروک لو گر غلط چلے کوئیبخش دو گر خطا کرے کوئیکون ہے جو نہیں ہے حاجت مندکس کی حاجت روا کرے کوئیکیا کیا خضر نے سکندر سےاب کسے رہنما کرے کوئیجب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلہ کرے کوئیTap a word to look it up