دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھاMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 7دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا"عشقِ نبرد پیشہ" طلب گارِ مرد تھاتھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوااڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھاتالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میںمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھادل تا جگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اباس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھاجاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی!دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھااحباب چارہ سازیٔ وحشت نہ کر سکےزنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھایہ لاشِ بے کفن اسدِؔ خستہ جاں کی ہےحق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھاTap a word to look it up