عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جاناMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جاناتجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانادل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تماممِٹ گیا گھِسنے میں اُس عُقدے کا وا ہو جانااب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللّٰہ اللّٰہاس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جاناضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانادِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جاناہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلناروتے روتے غمِ فُرقت میں فنا ہو جاناگر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوسکیوں ہے گردِ رہِ جَولانِ صبا ہو جاناتاکہ تجھ پر کھُلے اعجازِ ہوائے صَیقلدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانابخشے ہے جلوۂ گُل، ذوقِ تماشا غالبؔچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جاناTap a word to look it up