دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںیعنی ہمارے جَیب میں اک تار بھی نہیںدل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیںملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیںبے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاںطاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیںشوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوشصحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیںگنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرفیاں دل میں ضعف سے ہَوَسِ یار بھی نہیںڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مانآخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیںدل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے رُو کشیحالاں کہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیںاس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیںدیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیںTap a word to look it up