کوئی امّید بر نہیں آتیKoi ummeed bar nahin aatiMirza Asadullah Khan GhalibGhazalKulliyāt-e-GhalibCardsFull poemSher 1 of 10کوئی امّید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتیموت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتیجانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبعیت ادھر نہیں آتیہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتیکیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتیداغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتیہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتیمرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتیکعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتیTap a word to look it up